Who is online?
In total there is 1 user online :: 0 Registered, 0 Hidden and 1 Guest

None

[ View the whole list ]


Most users ever online was 27 on Thu Mar 13, 2014 7:02 am
June 2017
MonTueWedThuFriSatSun
   1234
567891011
12131415161718
19202122232425
2627282930  

Calendar Calendar

Top posting users this month

Keywords

LIFE  teen  love  Funny  money  make  SECRETS  sight  words  Sagar  JOKES  


چلو لکھتے ہیں کاغذ پر کوئی حرفِ شناسائی

View previous topic View next topic Go down

چلو لکھتے ہیں کاغذ پر کوئی حرفِ شناسائی

Post by Naseem Abbas Malik on Thu Feb 20, 2014 1:47 pm

چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کوئی حرفِ شناسائی
کوئی عنوان
افسردہ دنوں کی نارسائی کا
بیاضِ عمر کے صفحات پربے نور ہوتی روشنائی کا
کسی کی کج ادائی کا
بسر ہوتے ہوئے سالوں پہ انگشتِ شہادت سے
چلو کچھ نام لکھتے ہیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
بہت سی ان کہی باتیں
جنھیں پہلے نہیں لکھا
جنھیں پہلے نہیں سوچا
کہیں سے ڈھونڈ کر لائیں گزشتہ عمر کے منظر
جنھیں پہلے نہیں دیکھا
ذرا محسوس کر کے دیکھتے ہیں
پھر وہی شامیں
کہ جو راتوں کی نرمیلی ہوا سے گفتگو کر کے
نئی صبحوں کی دھیمی روشنی میں جذب ہوتی تھیں
ذرا جب حبس بڑھتا تھا
کہیں سے ابر اٹھتا تھا
کہیں بارش کی بوندوں سے
زمیں موسم اگاتی تھی
کہیں امرود کی شاخوںپہ چڑیاں شور کرتی تھیں
پھلوں سے پیٹ بھرتی تھیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کہ جب لکھنا نہ آتا تھا
تو پریوں کی کہانی سنتے سنتے
نیند کی سرسبز وادی میں
قدم رکھنا
ہواؤں میں پرندوں کی طرح اڑنا
پرستانوں میں جا کر تتلیوں سے گفتگو کرنا
بہت سے جادوئی منظر جگاتا تھا
ہمیں خود سے ملاتا تھا
پرانی صحبتیں برہم
سوادِ شہرِ جاں سے دور اک بستی ہے خوابوں کی
چلو پھر سے اسی بستی میں اپنی عمر کی تجدید کرتے ہیں
خود اپنی زندگی کے کینوس میں
رنگ بھرتے ہیں ___!!
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کوئی حرفِ شناسائی
کوئی عنوان
افسردہ دنوں کی نارسائی کا
بیاضِ عمر کے صفحات پربے نور ہوتی روشنائی کا
کسی کی کج ادائی کا
بسر ہوتے ہوئے سالوں پہ انگشتِ شہادت سے
چلو کچھ نام لکھتے ہیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
بہت سی ان کہی باتیں
جنھیں پہلے نہیں لکھا
جنھیں پہلے نہیں سوچا
کہیں سے ڈھونڈ کر لائیں گزشتہ عمر کے منظر
جنھیں پہلے نہیں دیکھا
ذرا محسوس کر کے دیکھتے ہیں
پھر وہی شامیں
کہ جو راتوں کی نرمیلی ہوا سے گفتگو کر کے
نئی صبحوں کی دھیمی روشنی میں جذب ہوتی تھیں
ذرا جب حبس بڑھتا تھا
کہیں سے ابر اٹھتا تھا
کہیں بارش کی بوندوں سے
زمیں موسم اگاتی تھی
کہیں امرود کی شاخوںپہ چڑیاں شور کرتی تھیں
پھلوں سے پیٹ بھرتی تھیں
چلو لکھتے ہیں کاغذ پر
کہ جب لکھنا نہ آتا تھا
تو پریوں کی کہانی سنتے سنتے
نیند کی سرسبز وادی میں
قدم رکھنا
ہواؤں میں پرندوں کی طرح اڑنا
پرستانوں میں جا کر تتلیوں سے گفتگو کرنا
بہت سے جادوئی منظر جگاتا تھا
ہمیں خود سے ملاتا تھا
پرانی صحبتیں برہم
سوادِ شہرِ جاں سے دور اک بستی ہے خوابوں کی
چلو پھر سے اسی بستی میں اپنی عمر کی تجدید کرتے ہیں
خود اپنی زندگی کے کینوس میں
رنگ بھرتے ہیں ___!!
avatar
Naseem Abbas Malik
Mr.Administrator
Mr.Administrator

Posts : 156
Points : 395
Reputation : 0
Join date : 2012-04-14
Age : 23
Location : Muzaffargarh

View user profile http://naseemabbas.forumur.net

Back to top Go down

View previous topic View next topic Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum